مضامین

اردو کی بے راہ روی اور بربادی کا بنیادی سبب …. احمد علی

Spread the love




” اردو کی بے راہ روی اور بربادی کا بنیادی سبب ”

وہ زبان جس کی تاریخ دوہزار سال سے اوپر ہے اس زبان کو بگاڑنے ، اسے برباد کرنے میں کس کا ہاتھ ہے ؟ سطحی طور پہ دیکھا جائے تو ہمیں نظر آتا ہے اولا تو رسم الخط کی بنیاد پر ایک متعصب طبقہ کا اس زبان کا دشمن ہے یہ طبقہ یہی سمجھتا رہا کہ نستعلیق رسم الخط کو یکسر متروک بنا کے وہ اس زبان کا خاتمہ کر سکتا ہے اسی سوچ پر یہ متعصب طبقہ ایک عرصے عمل پیرا ہے ، مجھے ان سے کوئی گلا شکوہ نہیں اور نہ میں ان کی ایسی کوششوں کو اس قابل سمجھتا ہوں کہ اس ذریعے سے یہ اپنا مقصود حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے ، پڑوسی ملک سے میں اس رویے اور اس تعصب بلکہ تقابلانہ جائزے میں اس کی ناکامی کی کئی ایک مثالیں ہمارے سامنے ہیں جنہوں نے خط نستعلیق کی جگہ دیوناگری رسم الخط رائج کر کے یہ کوشش کی کہ کسی طرح سے اردو کا وجود ختم کردیا جائے لیکن وہ اس میں کل بھی ناکام تھے آج بھی ناکام ہیں اور آنے والے کل میں بھی ناکام ہوں گے ، دیو ناگری رسم الخط کے کچھ ماہرین سے گفتگو کے دوران جب مجھ سے اس کی وجہ دریافت کی گئی تو میں نے عرض کیا کہ برصغیر پاک و ہند میں بین العلاقائی رابطے کی سب سے بڑی زبان کا جو تلفظ رائج ہے دیو ناگری رسم الخط اس زبان کی ضروریات کو پورا کرنے میں ناکام ہے اور ظاہر ہے کہ جب رسم الخط زبان کی ضروریات کو پورا نہ سکے تو لاکھ کوششوں کے باوجود آپ اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہو سکتے چناچہ آپ رسم الخط تبدیل کرنے کے باوجود آج تک اپنی اس کوشش میں ناکام ہیں لہذا میں آپ کی جانب سے زبان کے نام اور رسم الخط کی اس تبدیلی کو اردو کے لئے کوئی بڑا خطرہ نہیں سمجھتا بات رسم الخط کی ہو رہی ہے تو کچھ رومن اردو کے بارے میں بھی عرض کرتا چلوں، دور حاضر میں ٹیکنالوجی اپنے عروج پر ہے باہمی رابطوں کے لئے سوشل میڈیا ایک اہم اور ناگزیر ذریعہ بن چکا ہے، کمپیوٹر اور موبائل ابتدا میں اس خاصیت کے حامل نہ تھے کہ اردو کو نستعلیق رسم الخط میں لکھا جا سکے ( یہ مسئلہ صرف اردو زبان کے ساتھ ہی خاص نہیں تھا بلکہ دنیا کی ان تمام زبانوں کو یہ مسئلہ درپیش تھا جن کی کتابت رومن حروف سے نہیں کے بلکہ اپنے اپنے مخصوص رسم الخط میں کی جاتی ہے ) لہذا اردو الفاظ کو رومن حروف کے ساتھ لکھنے کا ایک چلن شروع ہوا، لیکن کچھ محبان اردو کی اس کاوش کو سلام کہ انہوں نے اس کا حل نکال دیا اور ایسے سافٹ وئیرز تیار کئے جن کی مدد سے آج ہم کمپیوٹر اور موبائل پر اردو کو نستعلیق میں لکھ پڑ سکتے ہیں، سو بوجہ مجبوری رومن حروف کے اس استعمال کو بھی میں اردو کی بربادی کا بنیادی سبب نہیں مانتا اگر رسم الخط کی یہ تبدیلی یہ متعصابانہ رویہ اردو کی بربادی کا بنیادی سبب نہیں تو آخر وہ سبب ہے کیا ؟ بنیادی سبب کے بیان کرنے سے پہلے ایک اور ناکام ذریعہ اور کوشش بھی دیکھ لیجئے یہ کوشش احساس کمتری کے مارے ہوئے مغرب زدہ لوگوں کی جانب سے ہو رہی ہے جو آکفسورڈ اور کیمبرج کے تحت چلنے والے اعلی معیارکے انگلش میڈیم اسکولز میں اس زبان کی شکل بگاڑنے کی اپنی سی کوشش جاری رکھے ہوئے ہیں ، ان کا طریقہِ واردات کچھ یوں ہے حلقہ ارباب ذوق راولپنڈی کے ایک اجلاس میں ایک محترمہ جو کیمبرج اسکول سسٹم سے وابستہ ہیں کچھ یوں گویا ہوئیں کہ ہمیں یہ بتایا جاتا ہے کہ اگر کوئی بچہ اردو حروف کو لکھتے وقت تلفظ کی غلطی کرے تو اس کے نمبر نہ کاٹے جائیں ، پھر انہوں نے اس کی ایک مثال دی کہ ” اگر کوئی بچہ حقیقت کو ہکیکط لکھ دے تو ہم اس کے نمبر نہیں کاٹتے ” ، اس پر میں نے ان سے سوال کیا کہ محترمہ کیا آپ یہی اصول انگریزی زبان پہ بھی لاگو کرتی ہیں؟ اگر کئی بچہ CAT کو KAT لکھ دے تو کیا آپ اس کے نمبر بھی نہیں کاٹیں گی ؟ اور اگر ایسا نہیں تو اردو کے ساتھ یہ امتیازی سلوک کیوں؟




جواب ندارد معلوم ہوا کہ مقصد کچھ اور ہی ہے لیکن باوجود اس مقصد کے میں اس کوشش کو بھی بنیاد سبب قرار نہیں دیتا کیوں کہ ایسے اسکولز میں تو ملک کے صرف 10 سے 15 فیصد لوگوں کے بچے ہی زیر تعلیم ہیں اور یہ ضروری نہیں کہ وہ سب کے سب اس چلن کے لئے لقمہِ تر ثابت ہوں اب آتے ہیں بنیادی سبب کی طرف اردو کی بربادی کا بنیادی سبب وہ لوگ ہیں جو نستعلیق رسم الخط اور اردو صرف و نحو کے قواعد و ضوابط پر عبور نہ رکھنے کے باوجود ایسے مراتب پر فائز کئے جا چکے ہیں یا خود ساختہ اپنے لئے ایسے مراتب بنا لئے ہیں کہ ان کے کہے کو حرف آخر تسلیم کر لیا جائے، ان کی لسانی خطاؤں کو خطا نہیں بلکہ درست اور برحق رائے تسلیم کیا جائے اور اسی چلن کو اختیار کیا جائے، ایسے خود ساختہ ماہرین سے سوشل میڈیا بھرا پڑا ہے ، یہاں ان لوگوں کو اپنا نام بنانے، شہرت کمانے میں چنداں مشکل درپیش نہیں ہوتی ، اپنے فاسد و باطل لسانی نظریات کی تشہیر کے لئے ماسبق اسباب کے شکار لوگ ان کے لئے ایک کھلا میدان ثابت ہوتے ہیں کہ جب وہ درست رہنمائی کے لئے تلاش شروع کرتے ہیں تو ایسے نام نہاد دانشور انہیں بانہیں پھیلائے کھڑے نظر آتے ہیں چناچہ شکار ایک صیاد کے چنگل سے نکلنے کی خواہش میں دوسرے صیاد کے چنگل میں پھنس جاتا ہے ، چونکہ زبان و بیان اور رسم الخط کے حوالے سے ان طلب گاروں کا اپنا علم محدود سے محدود تر ہوتا ہے لہذا وہ آسانی سے ان نام نہاد دانشوروں کا صرف شکار ہی نہیں بلکہ عقیدت مند بھی بن جاتے ہیں اور آگے چل کر ان کی غلط تحقیقات کی حفاظت ایسے ہی کرتے ہیں جیسے سرحد پر کھڑا کوئی سپاہی اپنی سرزمین کی حفاظت کرتا ہے ، اگر آپ نے ایسے کسی نام نہاد دانشور کی دانشوری کے خلاف آواز بلند کرنے یا اس کے فرمان شاہی سے روگردانی کی کوشش کی تو ” شاہ سے بڑھ کر شاہ کے وفادار” کے مصداق یہ عقیدت مند آپ کو گھیر لیں گے ، کبھی طعنے دیں کبھی ذاتیات پر حملہ آور ہوں گے آپ کو طنز کا نشانہ ہی نہیں بنائیں گے اپنی یا اپنے شاہ کی علمیت کا جنازہ نکلتے دیکھ کر مغلظات زمانہ کا ایک ہار بھی آپ کے گلے میں ڈال دیں گے ، نام نہاد مہان دانشور اس ساری صورت حال سے محظوط ہوتا رہے گا، یہ بھی ممکن ہےکہ اسے آپ کو کچھ کہنے کی ضرورت ہی محسوس نہ ہو ، اسی پر بس نہیں بلکہ اس نام نہاد دانشور جیسا کوئی دوسرا مہان دانشوراپنے پیٹی بھائی کی مدد کو دوڑا چلا آئے گا اور ” من ترا حاجی بگویم تو مرا حاجی بگو ” کے اصول پر عمل پیرا ہوتے ہوئے نہ صرف آپ کی تردید کرے گا بلکہ اپنے حاجی کے حق میں فیصلہ بھی صادر فرما دے گا ، یہ ہے زبان کی بے راہ روی اور بربادی کا حقیقی سبب جب تک اس سبب کا تدارک نہیں ہوگا زبان ترقی کے بجائے تنزلی کے سفر پر ہی گامزن رہے گی زبان و بیان کے مسائل میں ہر سنی سنائی پر ایمان لانے اور اسے تسلیم کرنے سے پہلے پرکھنے کو عادت بنائیے ، مدعی سے اس کے دعوے کی دلیل طلب کیجئے مذکورہ معاملے میں اسلاف کا چلن دیکھئے توجیہات تلاش کیجئے رائے درست معلوم ہو تو تسلیم کیجئے اوراپنے عمل میں لائیے بصورت دیگر، اسے راہ چلتے کسی کا اچھالا ہوا فقرہ سمجھ کے بھول جائیے

 

تحریر: احمد علی




جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے