شاعری غزل

اٹھا رہی ہیں جو سر خواہشیں قلم کردوں …. نسیم شیخ

Spread the love




اٹھا رہی ہیں جو سر خواہشیں قلم کردوں
میں یعنی گھر سے نکلنا ہی اپنا کم کردوں

میں اپنی ذات کا منکر وہ مجھ سے کہتی ہے
میں پڑھ کے عشق کی آیت کو اس پہ دم کردوں

یہ اور بات ہے خاموش ہوں وگرنہ میں
لگا کے خود کو اپنی آنکھ نم کردوں

اترنے لگ گئے اشعار ورنہ سوچا تھا
زمین و آسماں اک دوسرے میں ضم کر دوں

بنا رہا ہوں میں کاغذ پہ اک نئی دنیا
بتاؤ کس کو یہاں کس کا میں صنم کردوں

غموں کی آنچ سے تبخیر ہو کے چاہوں گا
ہر آئنے کے مقدر کو جامِ جم کردوں

ہمارے نام وہ کہتے ہیں ایک شام کرو
میں ان کے نام پہ کیسے یہ شامِ غم کردوں

تلاش کرتا ہوں وہ کورے ہاتھ مدت سے
میں جن کو تھام کے اک داستاں رقم کردوں

زباں ملے گی تو بولے گی آبلہ پائی
میں چاہتا تھا جو میں میں ہے اس کو ہم کردوں

بہا کے موجِ نسیمی کو دل کی آنکھوں سے
ہو دسترس میں تو دنیا کو محترم کردوں




جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے