شاعری نظم

حنوط …… نیل احمد

Spread the love





بے ذائقی کا ذائقہ چکھنے کے لیے
میں نے خود سے کنارہ کیا
اکیلے پن میں خود سے جدا ہونے کی اذیت تم نہ جان سکو گے
خود ساختہ سفر کی کوئی منزل نہیں
مگر کچھ دیر سستانے کے لیے
جنگل میں خیمہ تو لگانا پڑتا ہے
فنا کی چاپوں سے گونجتا ہے دن
اور رات بےسمت صداؤں سے بنی صورتوں کا مسکن
یوں خوابوں کے نگار خانے میں
نیندیں بھی رائگاں جاتی ہیں
اس لئے میں نے
خود سے ملن کی ہمیشگی کی لذت دل میں بسا کر
خود ساختہ تکمیل کا عمل
لاشعور کے تہ خانے میں حنوط کر دیا



جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے