شاعری غزل

زمیں کا گُھومنا جِس پَل تَھمے گا ….. نیلم ملک

Spread the love

زمیں کا گُھومنا جِس پَل تَھمے گا
تبھی رقصِ تمنّا بھی رُکے گا

فریبِ یک نظر، تیرا نہ ہونا
تدبّر سے مگر ہونا کُھلے گا

خُدا کا مسئلہ حل کر رہے ہیں
خُدائی کا ابھی اُلجھا رہے گا

ابھی جاری ہُوا لفظوں کا چَشمہ
نہیں معلوم کِس جانب بہے گا

تبھی منظور ہو گا اس میں رہنا
مری شرطوں پہ جب کمرہ سجے گا

بھرے گی سُرخ سیبوں سے وہ دامن
جب اُس پر سبز دروازہ کُھلے گا

نیلم ملک




جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے