مضامین

سعود عثمانی ۔۔۔ ہمارے عہد کا نمائندہ …… ملیحہ سید

Spread the love




تعارف کرانا پڑے گا؟

مجھے بیس پچیس برس دورِ ماضی میں جاکر

یہاں پھر سے آنا پڑے گا

تعارف کرانا پڑے گا

گذشتہ خد وخال اور حال کو جوڑتا پُل بنانا پڑے گا

میں اس راستے سے دوبارہ گزرنا نہیں چاہتا ہوں

جو دل میں نے برسوں چھپا کر رکھا تھا

وہ پھر سے دکھانا پڑے گا

زمانہ کسی کو بھلا بخشتا ہی کہاں ہے

اور اس راستے میں زمانہ پڑے گا!

اگر ہم سعودعثمانی کی شاعری کا تجزیاتی مطالعہ کریں تو یہ حقیقت روز روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ وہ موضوعات کے بارے میں محض تجریدی بیان پر انحصار نہیں کرتے۔زندگی کے جملہ زیر وبم اور معاشرے کے تمام نشیب و فرازاس کی شاعری میں سمٹ آئے ہیں ۔نفسیا تی اعتبار سے اس ذہین شاعر نے معاشرے کے ہر لمحہ بدلتے ہوئے حرکیاتی کردار کو بہ طریق احسن اپنی شاعری میں جگہ دی ہے ۔اس طرح ایک اجتماعی جذبہ فکر و نظر کو مہمیز کرتا ہے جو تخلیق کار کا امتیازی وصف قرار دیا جا سکتا ہے۔ان کی شاعری میں حقائق کی صورت گری کا جو ارفع معیار موجود ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔ان کے فن میں جزئیات کا مطالعہ قابل توجہ ہے ۔وہ زندگی کے تمام موسموں کی سچی تصویر پیش کرتے ہیں ۔ان کی انسان دوستی ان کی شاعری میں صاف دکھائی دیتی ہے ۔جس معاشرے میں لوٹے اور لٹیرے ،مسخرے اور مفاد پرست ہر وقت ضمیر فروشی کے لیے ادھار کھائے بیٹھے ہوں وہاں عزت نفس کا تصور ہی عبث ہے ۔سعود عثمانی نے اس الم ناک صور ت حال کے بارے میں لکھا ہے ۔




ہر شخص وہاں بکنے کو تیار لگے تھا

وہ شہر سے بڑھ کر کوئی بازار لگے تھا

ویرانی کا مسکن ہے بلاشرکت غیرے

وہ قصر جہاں شاہ کا دربار لگے تھا

بادل کی طرح رنج فشانی کریں ہم بھی

شاید کبھی اس آگ کو پانی کریں ہم بھی

بس ایک سلسہءبیش و کم لگا ہوا ہے

وگرنہ سب کو یہاں کوئی غم لگا ہوا ہے

سعود عثمانی نے جس فنی مہارت سے کام لیتے ہوئے زندگی اور اس کی معنویت کے بارے میں نئے تصورات کی جستجو کی ہے وہ قابل تحسین ہے ۔یہ شاعری قاری کو حریت فکر،حریت ضمیر سے جینے اور آزادیء اظہار کے متعلق ایک منفرد پہلو سے آشنا کرتی ہے

یہ چاند سدا دل کے افق پر نہ رہے گا

کوئی نہ رہا ہے مرے دلبر ‘ نہ رہے گا

جی بھر کے تجھے دیکھ رہا ہوں کہ خبر ہے

جب آنکھ کھلے گی تو یہ منظر نہ رہے گا

۔سعود عثمانی نے ان تمام عوامل کی نشان دہی کی ہے جو ہو چکے ہیں یا جن کا وقو ع پذیر ہونا بعید از قیاس نہیں ہے سعود عثمانی ہمارے عہد کے ایک نمائندہ شاعر ہیں جنہوں نے ہوائے جورو ستم میں بھی رخ وفا کو فروزاں رکھا ہوا ہے ۔ان کے سخن میں وہ حسن بیان ہے کہ پتھروں سے اپنی تاثیر کا لوہا منوا لیتی ہے ۔اس جری شاعر نے اپنی شاعری کے ذریعے ایک اجتماعی سوچ کو پروان چڑھایا ہے جس کے معجز نما اثر سے حیات انسانی کی لاشعوری کیفیات ،مسائل زیست کی اس انداز میں مرقع نگاری کی گئی ہے کہ قاری بے اختیار پکار اٹھتا ہے کہ اے مصور تیرے ہاتھوں کی بلائیں لے لوں

تصویریں بناؤں گا ، سخن کاری کروں گا

اے ہجر ترے وصل کی تیاری کروں گا

مصروف تو رہنا ہے جدائی میں کسی طور

بچھڑے ہوئے لوگوں کی عزا داری کروں گا

ٹوٹی ہوئی ٹہنی کے بھی سب زخم ہرے ہیں

اے عشق زدہ ، میں تری غم خواری کروں گا

اچھا تو یہی ہے کہ میں کچھ بھی نہ کہوں دوست

کرنی ہی پڑی بات تو پھر ساری کروں گا

کہہ دوں گا مجھے تم سے محبت ہی نہیں تھی

اک روز میں اپنی بھی دل آزاری کروں گا

سچ یہ ہے کہ پڑتا ہی نہیں چین کسی پل

گر صبر کروں گا تو اداکاری کروں گا

اس شاعری کی اہم ترین خوبی یہ ہے کہ اس میں تہذیبی ترفع پر توجہ دی گئی ہے۔زندگی کی اہمیت ،انسانی ہمدردی کی افادیت اور اجتماعی شعور کی بیداری کے بارے میں سعود عثمانی کا لہجہ ایک منفرد انداز میں سامنے آیاہے۔

نشے کی طرح محبت بھی ترک ہوتی نہیں ہے

جو ایک بار کرے گا ‘ وہ بار بار کرے گا




جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے