مضامین

عصمت فروشی ….. سعادت حسن منٹو

Spread the love

عصمت فروشی 




عصمت فروشی کوئی خلاف عقل یا خلاف قانون چیز نہیں ہے۔ یہ ایک پیشہ ہے
جس کو اختیار کرنے والی عورتیں چند سماجی ضروریات پوری کرتی ہیں جس شے کے گاہک موجود ہوں، اگر وہ مارکیٹ میں نظر آئے تو ہمیں تعجب نہ کرنا چاہیئے، اگر ہمیں ہر شہر میں ایسی عورتیں نظر آتی ہیں جو اس جسمانی تجارت سے اپنا پیٹ پالتی ہیں تو ہمیں ان کے ذریعہ معاش پر کوئی اعتراض نہ ہونا چاہیئے۔ اس لیئے کہ ہر شہر میں ان کے گاہک موجود ہیں۔
عصمت فروشی کو گناہ کبیرہ یقین کیا جاتا ہے ممکن ہے یہ بہت بڑا گناہ ہو، مگر ہم مذہبی نقطۂ نظر سے اس کو جانچنا نہیں چاہتے۔ گناہ اور ثواب، سزا اور جزا کی بھولبھلیوں میں پھنس کر آدمی کسی مسئلے پر ٹھنڈے دل سے غور نہیں کر سکتا۔ مذہب خود ایک بہت بڑا مسئلہ ہے، اگر اس میں لپٹ کر کسی اور مسئلے کو دیکھا جائے تو ہمیں بہت ہی مغز دردی کرنی پڑے گی۔ اس لیئے مذہب کو عصمت فروشی سے الگ کر کے ہم نے ایک طرف رکھ دیا ہے۔
عصمت فروشی کیا ہے؟ ۔۔۔ عصمت کو بیچنا۔ یعنی اس گوہر کو بیچنا جس کو عورت کی زندگی کا سب سے قیمتی زیور یقین کیا جاتا ہے۔ اس زیور کی قدر اسلیئے بہت زیادہ بڑھ گئی ہے کہ تجربے نے ہمیں بتایا ہے کہ عورت جب ایک بار اس کو کھو دیتی ہے تو سماج کی نگاہوں میں اس کی کوئی عزت نہیں رہتی۔ یہ گوہر کئی طریقوں سے ضائع ہوتا ہے۔ جب عورت کی شادی ہو جائے تو یہ گوہر خاوند کی جیب میں چلا جاتا ہے۔ بعض اوقات مرد اسے زبردستی حاصل کر لیتے ہیں اور بعض اوقات شادی کے بغیر عورتیں اسے اپنے دل پسند مردوں کے حوالے کر دیتی ہیں۔ بعض حالات سے مجبور ہو کر اسے بیچ دیتی ہیں اور بعض اس کی تجارت کرتی ہیں۔
ہم ان عورتوں کے متعلق کچھ کہنا چاہتے ہیں جو پیشے کے طور پر اپنی عصمت بیچتی ہیں حالانکہ یہ بالکل واضح چیز ہے کہ عصمت صرف ایک بار کھوئی یا بیچی جا سکتی ہے، بار بار اس کو بیچا یا کھویا نہیں جا سکتا، لیکن چونکہ اس پیشے کو عرفِ عام میں عصمت فروشی کہا جاتا ہے اسلیئے ہم اسے عصمت فروشی ہی کہیں گے۔
عصمت فروش عورت ایک زمانے سے دنیا کی سب سے ذلیل ہستی سمجھی جاتی رہی ہے مگر کیا ہم نے غور کیا ہے کہ ہم میں سے اکثر ایسی ذلیل و خوار ہستیوں کے در پر ٹھوکریں کھاتے ہیں؟ ۔۔۔ کیا ہمارے دل میں یہ خیال پیدا نہیں ہوتا کہ ہم بھی ذلیل ہیں۔
مقام تاسف ہے کہ مردوں نے اس پر کبھی غور نہیں کیا۔ مرد اپنے دامن پر ذلت کے ہر دھبے کو عصمت فروش عورت کے دل کی سیاہی سے تعبیر کرے گا۔ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ عورتوں میں خواہ وہ کسبی ہوں یا غیر کسبی ہوں، ننانوے فیصدی ایسی ہوں گی جن کے دل عصمت فروشی کی تاریک تجارت کے باوجود بدکار مردوں کے دل کی بہ نسبت کہیں زیادہ روشن ہوں گے۔ موجودہ نظام کے تحت جس کی باگ ڈور صرف مردوں کے ہاتھ میں ہے، عورت خواہ وہ عصمت فروش ہو یا باعصمت، ہمیشہ دبی رہی ہے۔ مرد کو اختیار ہوگا کہ وہ اس کے متعلق جو چاہے رائے قائم کرئے۔
ہم نے متعدد بار اپنے کانوں سے تعیش پسند امیروں کو اپنا مال و اسباب شہوت کے تنور میں ایندھن کے طور پر جلا کر یہ کہتے سنا ہے کہ فلاں طوائف یا فلاں ویشیا نے ان کو تباہ و برباد کر دیا ہے ۔۔۔ یہ معمّاابھی تک ہماری سمجھ میں نہیں آیا۔
ویشیا یا طوائف اپنے تجارتی اصولوں کے ماتحت ہر مرد سے جو اس کے پاس گاہک کے طور پر آتا ہے، زیادہ سے زیادہ نفع حاصل کرنے کی کوشش کرے گی، اگر وہ مناسب داموں پر یا حیرت انگیز قیمت پر اپنا مال بیچتی ہے تو یہ اس کا پیشہ ہے بنیا بھی تو سودا تولتے وقت ڈنڈی مار جاتا ہے۔ بعض دکانیں زیادہ قیمت پر اپنا مال بیچتی ہیں۔ بعض کم قیمت پر۔




تعجب تو اس بات کا ہے کہ جب صدیوں سے ہم یہ سن رہے ہیں کہ ویشیا کا ڈسا ہوا پانی نہیں مانگتا تو ہم کیوں اپنے آپ کو اس سے ڈسواتے ہیں اور پھر کیوں خود ہی رونا پیٹنا شروع کر دیتے ہیں۔ ویشیا ارادتاً یا کسی انتقامی جذبے کے زیراثر مردوں کے مال و زر پر ہاتھ نہیں ڈالتی۔ وہ سودا کرتی ہے اور کماتی ہے۔ مرد اپنی جسمانی خواہشات کی تکمیل کا معاوضہ ادا کرتے ہیں اور بس!
ممکن ہے ویشیا کسی مرد سے محبت کرتی ہو لیکن ہر وہ گاہک جو ایک خاص بندے کے زیراثر اس کی دکان میں جاتا ہے، دل میں یہ خواہش بھی پیدا کر لے کہ وہ اس سے سچی محبت کرے تو یہ کیونکر ممکن ہے؟ ۔۔۔ ہم اگر کسی دکان سے ایک روپے کا آٹا لینے جائیں تو ہماری یہ توقع قطعی طور پر مضحکہ خیز ہوگی کہ وہ ہمیں اپنے گھر میں مدعو کرے گا اور سر کے گنج کا کوئی لاجواب نسخہ بتائے گا۔
ویشیا اپنے اس گاہک کے روبروجو اس سے محبت کا طالب ہے، اپنے چہرے پر مصنوعی محبت کے جذبات پیدا کرے گی۔ یہ چیز گاہک کو خوش کر دے گی، مگر یہ عورت اپنے سینے کی گہرائیوں میں سے ہر مرد کیلئیجو شراب پی کر اس کے کوٹھے پر جھومنے لگتا ہے اور رومان کی ایک نئی دنیا بسانا چاہتا ہے، محبت کی پاک اور صاف آواز نہیں نکال سکتی۔
ویشیا کو صرف باہر سے دیکھا جاتا ہے۔ اس کے رنگ روپ اس کی بھڑکیلی پوشاک اور اس کے مکان کی آرائش و زیبائش دیکھ کر یہی نتیجہ مرتب کیا جاتا ہے کہ وہ خوش حال ہے۔ یہ درست نہیں۔
جس عورت کے دروازے شہر کے ہر اس شخص کیلئے کھلے ہیں جو اپنی جیبوں میں چاندی کے چند سکے رکھتا ہو۔ خواہ وہ موچی ہو یا بھنگی، لنگڑا ہو یا لُولا۔ خوبصورت ہو یا کر یہہ المنظر، اس کی زندگی کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ ایک بدصورت مرد جس کے منہ سے پائیوریا لگے دانتوں کے تعفن کے بھبکے نکلتے ہیں، ایک نفاست پسند ویشیا کے ہاں آتا ہے، چونکہ اس کی گرہ میں اس ویشیا کے جسم کو ایک خاص وقت تک خریدنے کیلئیدام موجود ہیں۔ وہ نفرت کے باوجود اس گاہک کو نہیں موڑ سکتی۔ سینے پر پتھر رکھ کر اس کو اپنے اس گاہک کی بدصورتی اور اس کے منہ کا تعفن برداشت کرنا ہی پڑے گا۔ وہ اچھی طرح جانتی ہے کہ اس کا ہر گاہک اپولو نہیں ہو سکتا۔
ٹائپسٹ عورتوں کو حیرت سے نہیں دیکھا جاتا۔ وہ عورتیں جودا یہ گیری کا کام کرتی ہیں، انہیں حیرت اور نفرت سے نہیں دیکھا جاتا۔ وہ عورتیں جو گندگی سر پر اٹھاتی ہیں، ان کی طرف حقارت سے نہیں دیکھا جاتا، لیکن تعجب ہے کہ ان عورتوں کو جو اوچھے یا بھونڈے طریقے سے اپنا جسم بیچتی ہیں حیرت، نفرت اور حقارت سے دیکھا جاتا ہے !
حضرات یہ جسم فروشی ضروری ہے۔ آپ شہر میں خوبصورت اور نفیس گاڑیاں دیکھتے ہیں ۔۔۔ یہ خوبصورت اور نفیس گاڑیاں کوڑا کرکٹ اٹھانے کے کام نہیں آ سکتیں۔ گندگی اور غلاظت اٹھا کر باہر پھینکنے کیلئے اور گاڑیاں موجود ہیں جنہیں آپ کم دیکھتے ہیں اور اگر دیکھتے ہیں تو فوراً اپنی ناک پر رومال رکھ لیتے ہیں ۔۔۔ ان گاڑیوں کا وجود ضروری ہے اور ان عورتوں کا وجود بھی ضروری ہے جو آپ کی غلاظت اٹھاتی ہیں، اگر یہ عورتیں نہ ہوتیں تو ہمارے سب گلی کوچے مردوں کی غلیظ حرکات سے بھرے ہوتے۔
یہ عورتیں اجڑے ہوئے باغ ہیں، گھورے ہیں جن پر گندے پانی کی موریاں بہہ رہی ہوں، یہ ان گندی موریوں ہی پر زندہ رہتی ہیں ۔۔۔ ہر انسان کیسے ایک جیسے شاندار طریقے پر زندگی بسر کر سکتا ہے؟
ذرا خیال فرمایئے، شہر کے ایک کونے میں ایک ویشیا کا مکان ہے، رات کی سیاہی میں ایک مرد جو اپنے سینے میں اس سے بھی زیادہ سیاہ دل رکھتا ہے، اپنے جسم کی آگ ٹھنڈی کرنے کیلئے بے دھڑک اس کے مکان میں چلا جاتا ہے ۔ ویشیا اس مرد کے دل کی سیاہی سے واقف ہے۔ اس سے نفرت بھی کرتی ہے۔ اچھی طرح جانتی ہے کہ اس کا وجود دامنِ انسانیت پر ایک بدنما دھبہ ہے۔ اس کو معلو م ہے کہ وہ ازمنۂ بربریت کا ایک خوفناک نمونہ ہے، مگر وہ اپنے گھر کے دروازے اس پر بند نہیں کرسکتی۔ جو دروازے معاشی کشمکش نے ایک دفعہ کھول دیئے ہوں ، بہت مشکل سے بند کیئے جاسکتے ہیں۔
یہ ویشیا جو عورت پہلے ہے ، ویشیا بعد میں ، اس مرد کو چند سکوں کے عوض اپنا جسم حوالے کردیتی ہے لیکن اس کی روح اس وقت جسم میں نہیں ہوتی ۔ ایک ویشیا کے الفاظ سنیئے۔ ’’لوگ مجھے باہر کھیتوں میں لے جاتے ہیں۔۔۔ میں لیٹی رہتی ہوں بالکل بے حس و بے حرکت ، لیکن میری آنکھیں کھلی رہتی ہیں ۔ میں دور ۔۔۔ بہت دور ان درختوں کو دیکھتی رہتی ہوں ، جن کی چھاؤں میں کئی بکریاں آپس میں لڑ جھگڑ رہی ہوتی ہیں ۔ کتنا پیارا منظر ہوتا ہے ۔ میں بکریاں گننا شروع کردیتی ہوں یا پیڑوں کی ٹہنیوں پر کوؤں کو شمار کرنے لگتی ہوں ۔ انیس ،بیس ۔۔۔اکیس بائیس۔۔۔ اور مجھے معلوم بھی نہیں ہوتا کہ میرا ساتھی اپنے کام سے فارغ ہوکر ایک طرف ہانپ رہا ہے۔‘‘
مشاہدہ بتاتا ہے کہ ویشیا ئیں عام طور پر خدا ترس ہوتی ہیں ۔ ہر ہندو ویشیا کے مکان پر کسی نہ کسی کمرے میں آپ کو کرشن بھگوان یا گنیش مہاراج کی مورتی یا تصویر ضرور نظر آئیگی ۔ وہ اس مورتی کی اسی قدر صدق دل سے پوجا کرتی ہے جتنی ایک باعصمت یا گھریلو عورت کرسکتی ہے۔ اسی طرح وہ ویشیا جو مسلمان ہے ، ماہِ رمضان میں روزے ضرور رکھے گی، محرم میں اپنا کاروبار بندرکھے گی، سیاہ کپڑے پہنے گی، غریبوں کی مدد کرے گی اور خاص خا ص موقعوں پر خدا کے حضور میں عجز و نیاز کا نذرانہ بھی ضرور پیش کرے گی۔ بادی النظر میں عصمت باختہ عورتوں کو مذہب سے یہ لگاؤ ایک ڈھونگ معلوم ہوتا ہے مگر حقیقت میں یہ ان کی روح کا وہ حصہ پیش کرتا ہے جو سماج کے زنگ سے یہ عورتیں بچا بچا کے رکھتی ہیں۔




دوسرے مذہب کی ویشیا ئیں بھی آپ کو روحانی طور پر اپنے مذہب کے ساتھ بڑی مضبوطی کے ساتھ جکڑی نظر آئیں گی ۔ کرسچین ویشیا گرجے میں نماز کیلئے ضرور جائیگی۔ کنواری مریم کی تصویر کے پاس دیا ضرور جلائے گی۔ دراصل اس تجارت میں ویشیا اپنے جسم کو لگاتی ہے نہ کہ روح کو ۔ بھنگ یا چرس بیچنے والا ضروری نہیں کہ ان منشیات کا عادی ہو، ٹھیک اسی طرح ہر مولوی یا پنڈت پاکپاز نہیں ہوسکتا ۔
جسم داغا جاسکتا ہے مگر روح نہیں داغی جاسکتی۔
ویشیا ا پنی تاریک تجارت کے باوجود روشن روح کی مالک ہوسکتی ہے ۔ وہ اپنے جسم کی قیمت بڑی بے دردی سے وصول کرتی ہے۔ مگر وہ غریبوں کی وسیع پیمانے پر مدد بھی کرسکتی ہے۔ بڑے بڑے امیر اس کے دل میں اپنی محبت پیدا نہ کرسکے ہوں۔ مگر وہ سڑکوں پر سونے والے ایک آوارہ گرد کی پھٹی ہوئی جیب میں اپنا دل ڈال سکتی ہے۔
ویشیا دولت کی بھوکی ہوتی ہے ، لیکن کیا دولت کی بھوکی محبت کی بھوک نہیں ہوسکتی؟
یہ ایسا سوال ہے جس کے جواب میں ہمیں تفصیل سے کام لینا پڑے گا۔
خاندانی ویشیا اور نوکسبی ویشیا میں بہت فرق ہے اور پھر وہ عورتیں یا لڑکیاں جو اپنے غریب ماں باپ یا اپنے یتیم بچوں کی پرورش کیلئے مجبوراً اپنا جسم چھپ چھپ کر فروخت کرتی ہیں، ان کی حیثیت متذکرہ صدر اقسام سے بالکل جداگانہ ہے۔
خاندانی ویشیا سے ہماری مراد وہ کسبی عورت ہے جو ویشیا کے بطن سے پیدا ہوتی ہے اور اسی کے گھر میں پالی پوسی جاتی ہے۔ دوسرے الفاظ میں وہ عورت جس کو خاص اصولوں کے تحت ویشیا بننے کی تعلیم دی جاتی ہے۔ ایسی عورتیں جو اس ماحول میں پرورش پاتی ہیں، عشق و محبت کو عام طور پر ایسا سکہ تصور کرتی ہیں جو ان کے بازار میں نہیں چل سکتا۔ یہ نظریہ درست ہے ا سلیئے کہ اگر وہ ہر اس مرد کو جوان کے پاس چند لمحات گزارنے کیلئے آئے، اپنا دل حوالے کر دیں تو ظاہر ہے کہ وہ اپنے کاروبار میں کامیاب نہیں ہو سکتیں۔
عام طور پر یہی دیکھنے میں آیا ہے کہ اس سکول کی ویشیاؤں کے سینے میں عشق و محبت کا عنصر کم ہوتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں یہ دوسری عورتوں کے مقابلے میں مردوں سے عشق کرنے میں بڑی احتیاط اور بڑے بخل سے کام لیتی ہیں۔ مردوں سے روزانہ میل جول ان کے دل میں ایک ناقابل بیان تلخی پیدا کر دیتا ہے۔ وہ مردوں کو حیوانوں سے بدتر سمجھنے لگتی ہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ اس ضمن میں ایک حد تک ’’منکر‘‘ ہو جاتی ہیں، مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان کا سینہ محبت کے لطیف جذبات سے خالی ہوتا ہے۔
جس طرح بھنگن کی لڑکی کو گندگی کا پہلا ٹوکرا اٹھاتے وقت گھن نہیں آئے گی اسی طرح اپنے پیشے کا پہلا قدم اٹھاتے وقت ایسی ویشیاؤں کو بھی حجاب محسوس نہیں ہوگا۔ آہستہ آہستہ حیا اور جھجک سے متعلقہ قریب قریب تمام جذبات ان میں گھس گھسا کر ہٹ جاتے ہیں ۔۔۔ چکلے کے اندر جہاں شہوت پرست مردوں کیلئے ان عورتوں کے مکان کھلے رہتے ہیں، لطیف جذبات کیسے داخل ہو سکتے ہیں۔
جس طرح باعصمت عورتیں ویشیاؤں کی طرف حیرت اور تعجب سے دیکھتی ہیں، ٹھیک اسی طرح وہ بھی ان کی طرف اسی نظر سے دیکھتی ہیں۔ اوّل الذکر کے پیش نظر یہ استفہام ہوتا ہے۔ ’’کیا عورت اس قدر ذلیل ہو سکتی ہے؟‘‘ موخر الذکر یہ سوچتی ہیں۔ ’’یہ پاک باز عورتیں کیسی ہیں ۔۔۔ کیا ہیں؟‘‘
ویشیا جس کی ماں ویشیا تھی جس کی دادی ویشیا تھی جس کی پردادی ویشیا تھی، جس نے ویشیا کا دودھ پیا، جو عصمت فروشی کے گہوارے میں پلی، وہیں بڑی ہوئی، جس کی تجارت کا آغاز بھی وہیں شروع ہوا، عصمت اور باعصمت عورتوں کے متعلق کیا سمجھ سکتی ہے۔
ان سو لڑکیوں میں سے جو ویشیاؤں کے گھر میں پیدا ہوتی ہیں۔ شاید ایک دو کے دل میں اپنے گردوپیش کے ماحول سے نفرت پیدا ہوتی ہے اور وہ اپنے جسم کو صرف ایک مرد کے حوالے کرنے کا تہیہ کرتی ہیں، لیکن باقی سب اسی راستے پر چلتی ہیں جو ان کی ماؤں نے ان کیلئے منتخب کیا ہوتا ہے۔
جس طرح ایک دکاندار کا بیٹا اپنی نئی دکان کھولنے کا شوق رکھتا ہے اور اس شوق کا اظہار مختلف طریقوں سے کرتا ہے، ٹھیک اسی طرح ویشیاؤں کی جوان لڑکیاں اپنا پیشہ شروع کرنے کا بڑا چاؤ رکھتی ہیں، چنانچہ دیکھا گیا ہے کہ ایسی لڑکیاں نت نئے طریقوں سے اپنے جسم اور حسن کی نمائش کرتی ہیں۔ جب وہ اپنی تجارت کا آغاز کرتی ہیں تو باقاعدہ رسوم ادا کی جاتی ہیں۔ ایک خاص اہتمام کے ماتحت یہ سب کچھ کیا جاتا ہے جیساکہ دوسرے تجارتی کاموں کی بنیاد رکھتے وقت خاص رسوم کو پیش نظر رکھا جاتا ہے۔
ان حالات کے تحت جیسا کہ ظاہر ہے، متذکرہ صدر قسم کی ویشیاؤں کے دل میں عشق پیدا ہونا مشکل ہے، یہاں عشق سے ہماری مراد وہی عشق ہے، جو ہمارے یہاں عرصہ دراز سے رائج ہے۔ ہیر رانجھا اور سسّی پنوں والا عشق۔
ایسی ویشیائیں عشق کرتی ہیں، مگر ان کا عشق بالکل جدا قسم کا ہوتا ہے۔ یہ لیلیٰ مجنوں اور ہیر رانجھے والا عشق نہیں کر سکتیں۔ ا سلیئے کہ یہ ان کی تجارت پر بہت برا اثر ڈالتا ہے، اگر کوئی ویشیا اپنے اوقات تجارت میں سے چند لمحات ایسے مرد کو دے جس سے اسے روپے پیسے کا لالچ نہ ہو تو ہم اسے عشق و محبت کہیں گے۔ اصولاً ویشیا کو صرف مرد کی دولت سے محبت ہوتی ہے، اگر وہ کسی مرد سے اس کی دولت کی خاطر نہیں بلکہ صرف اس کی خاطر ملے تو یہ اصول ٹوٹ جائے گا اور اس کے ساتھ ہی یہ بھی ظاہر ہو جائے گا کہ اس ویشیا کی جیب نہیں بلکہ اس کا دل کارفرما ہے۔ جب دل کارفرما ہو تو عشق و محبت کے جذبے کا پیدا ہونا لازمی ہے۔
چونکہ عام طور پر عورت سے عشق و محبت کرنے کا واحد مقصد جسمانی لذت ہوتا ہے ا سلیئے ہم یہاں بھی جسمانی لذتوں ہی کو عشق کے اس جذبے کا محرک سمجھیں گے گو اس کے علاوہ اور بہت سی چیزیں اس کی تخلیق و تولید کی مہیج ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر ویشیا جو اپنے کوٹھے پر ہر مرد پر حکم چلانے کی عادی ہوتی ہے۔ غیر مختتم ناز برادریوں سے سخت تنگ آ جاتی ہے۔ اس کو آقا بننا پسند ہے، مگر کبھی کبھی وہ غلام بننا بھی چاہتی ہے۔ ہر فرمائش پوری ہو جانے میں اس کو بہت فائدہ ہے مگر انکار میں اور ہی لذت ہے۔ وہ ہر طرف سے دولت سمیٹتی ہے۔ یہ کام اس کا معمول بن جاتا ہے۔ ا سلیئے کبھی کبھی اس کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوتی ہے کہ وہ بھی کسی کیلئے خرچ کرے، اگر سب اس کی خوشامد کرتے ہیں تو وہ بھی کسی کی خوشامد کرے، اگر وہ ضد کرتی ہے تو کوئی اس سے بھی ضد کرے۔ وہ سب کو دھتکارتی ہے تو کوئی اسے بھی دھتکارے ستائے مارے پیٹے۔ یہ تمام چیزیں مل کر اس کے دل میں ایک خاص مرد کو اپنا رفیق بنانے پر مجبور کر تی ہیں، چنانچہ وہ انتخاب کرتی ہے۔
انتخاب کا یہ وقت بہت نازک ہوتا ہے۔ بہت ممکن ہے وہ کسی رئیس زادے پر اپنے دل کے خاص دروازے کھول دے اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ اپنے کوٹھے پر چلمیں بھرنے والے چرس نوش میراثی کے غلیظ قدموں میں اپنا وہ سر رکھ دے جس کے بالوں کو چومنے کیلئے بڑے بڑے راجاؤں اور مہاراجوں نے کئی کئی ہزار طلائی اشرفیاں پانی کی طرح بہا دی تھیں اور پھر اس وقت بھی کوئی تعجب نہ ہونا چاہیئے جب وہ غلیظ آدمی اس سر کو ٹھوکر مار کر پرے ہٹا دے۔ اس قسم کے واقعات دیکھنے اور سننے میں آ چکے ہیں۔
ہمارے یہاں ایک مشہور طوائف اس وقت تک موجود ہے۔ جس کے عشق میں ایک نواب مدتوں لٹو بنا رہا مگر وہ ایک نہایت ہی معمولی آدمی کے عشق میں گرفتار تھی۔ طوائف نواب کے عشق کا مضحکہ اڑاتی تھی اور ادھر اس کے اپنے عشق کا مضحکہ اڑایا جاتا تھا۔ نواب طوائف کے عشق میں رسوا ہوا اور طوائف اس آدمی کے عشق میں بدنام ہوئی۔
عام عورتوں کے مقابلے میں ان ویشیاؤں کے عشق کی شدت بہت زیادہ ہوتی ہے۔ ا سلیئے کہ یہ مردوں کے ساتھ ملنے جلنے سے نت نئے عاشقانہ جذبات سے متعارف ہوتی رہتی ہیں۔ جب یہ خود اس میں گرفتار ہوتی ہیں تو ان کو جلن زیادہ محسوس ہوتی ہے۔
ایسے بازاروں میں جہاں یہ عورتیں رہتی ہیں، آپ کو متذکرہ صدر قسم کی کئی کہانیاں سننے میں آ سکتی ہیں۔ خاص کر ان تعیش پسند امیروں کو جن کی تھیلیوں کے منہ ان جسم فروش عورتوں کے کوٹھوں پر کھلتے ہیں۔ ایسی کہانیاں ازبر ہیں۔ جن کو وہ اکثر مزے لے لے کر دوسروں کو سنانے کے عادی ہیں۔ سارنگئے، میراثی طبلچی اور وہ لوگ جن کی آمدورفت ایسے کوٹھوں پر عام رہتی ہے، آپ کو بہت دلچسپ قصے سنائیں گے۔
انہی لوگوں سے سنے سنائے قصوں میں ہم ایک ایسی ویشیا کی کہانی مثال کے طور پر پیش کر سکتے ہیں جو کہ ہزاروں اور لاکھوں میں کھیلتی تھی، مگر اس کا دل ایک چیتھڑے لٹکائے مزدور کے کھردرے پیروں تلے ہر روز روندا جاتا تھا۔ وہ ہر شب اپنے دولت مند پرستاروں سے سیم وزر کے انبار جمع کرتی تھی مگر ایک مزدور کے میلے کچیلے سینے میں دھڑکتے ہوئے دل تک اس کا ہاتھ نہیں پہنچ سکتا تھا۔ کہتے ہیں کہ یہ نازک بدن اس مزدور کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئیکئی بار سڑک کے پتھروں پر سوئی۔
اس قسم کا تضاد و تخائف جو عشق و محبت کا اصلی رنگ ہے، قحبہ خانوں میں دیکھا جائے تو بہت شوخ پُراسرار حد تک رومانی نظر آتا ہے۔ اس کی وجہ صرف عقبی منظر ہے جو پیش منظر کے ہر نقش کو ابھارتا ہے چونکہ عام طور پر ویشیا کے بارے میں یہی خیال کیا جاتا ہے کہ وہ سونا کھودنے والی کدال ہے اور محبت کے جذبات سے قطعی طور پر عاری ہے، ا سلیئے جب کبھی کسی ویشیا کے عشق کی ایسی داستان سننے میں آتی ہے تو بڑی عجیب و غریب اور پُر اسرار معلوم ہوتی ہے۔ ہم ایسی داستانوں کو اسی وجہ سے عام عورتوں اور مردوں کے معاشقوں کی بہ نسبت زیادہ دلچسپی سے سنتے ہیں۔ جیسے کسی مافوق العادت حادثے کی تفصیل سن رہے ہیں۔ حالانکہ دل اور اس کی دھڑکنوں سے عصمت فروشی یا عصمت مآبی کا کوئی تعلق نہیں ۔۔۔ ایک باعصمت عورت کے سینے میں محبت سے عاری دل ہو سکتا ہے اور اس کے برعکس چکلے کی ایک ادنیٰ ترین ویشیا محبت سے بھرپور دل کی مالک ہو سکتی ہے۔
ہر عورت ویشیا نہیں ہوتی لیکن ہر ویشیا عورت ہوتی ہے۔ اس بات کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیئے۔
ویشیاؤں کے عشق میں ایک خاص بات قابل ذکر ہے۔ ان کا عشق ان کے روز مرّہ کے معمول پر بہت کم اثر ڈالتا ہے۔ ایسی بہت کم طوائفیں ملیں گی جنہوں نے اس جذبے کی خاطر اپنا کاروبار قطعی طور پر بند کر دیا ہو (کسی شریف لڑکی کے عشق میں گرفتار ہو کر شہر کا شریف دکاندار بھی اپنی دکان بند نہیں کرے گا) عام طور پر یہی دیکھنے میں آیا ہے کہ وہ اپنے عشق کے ساتھ ساتھ اپنا کاروبار بھی جاری رکھتی ہیں۔ دراصل مال و دولت حاصل کرنے کی ایک تاجرانہ طلب ان میں پیدا ہو جاتی ہے۔ نت نئے گاہک بنانا اور ہر روز اپنا مال بیچنا ایک عادت سی بن جاتی ہے اور یہی عادت بعد میں طبیعت کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ اس طور پر کہ پھر اس کی زندگی کے دوسرے شعبوں سے کوئی سروکار نہیں رہتا۔ جس طرح گھر کے نوکر جھٹ پٹ اپنے آقاؤں کے بستر لگا کر اپنے آرام کا خیال کرتے ہیں۔ ٹھیک اسی طرح یہ عورتیں بھی اپنے گاہکوں کو نمٹا کر اپنی خوشی اور راحت کی طرف پلٹ آتی ہیں۔
دل ایسی شے نہیں جو بانٹی جا سکے اور مرد کے مقابلے میں عورت کم ہر جائی ہوتی ہے۔ چونکہ ویشیا عورت ہے ا سلیئے وہ اپنا دل تمام گاہکوں میں تقسیم نہیں کر سکتی۔ عورت کے متعلق مشہور ہے کہ وہ اپنی زندگی میں صرف ایک مرد سے محبت کرتی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ بہت حد تک ٹھیک ہے۔ ویشیا صرف اسی مرد پر اپنے دل کے تمام دروازے کھولے گی۔ جس سے اسے محبت ہو۔ ہر آنے جانے والے مرد کیلئے وہ ایسا نہیں کر سکتی۔
ویشیاؤں کے بارے میں عام طور پر یہ شکایت سننے میں آتی ہے کہ وہ بڑی بے رحم اور جلاّد صفت ہوتی ہیں ممکن ہے سو میں سے پانچ چھ اس نوعیت کی ہوں مگر سب کی سب ایسی نہیں ہوتیں بلکہ یوں کہیئیکہ نہیں ہو سکتیں۔ ویشیا اور باعصمت عورت کا مقابلہ ہر گز ہر گز نہیں کرنا چاہیئے۔ ان دونوں کا مقابلہ ہو ہی نہیں سکتا۔ ویشیا خود کماتی ہے اور باعصمت عورت کے پاس کما کر لانے والے کئی موجود ہوتے ہیں۔
ہمارے کانوں میں ایک ویشیا کے یہ لفظ ابھی تک گونج رہے ہیں، جو اس کے دل کی تمام گہرائیاں پیش کرتے ہیں۔ آپ بھی سنیئے!
’’ویشیا ایک بے کس اور بے یارومددگار عورت ہے۔ اس کے پاس ہر روز سینکڑوں مرد آتے ہیں، ایک ہی خواہش لے کر ۔۔۔ وہ اپنے چاہنے والوں کے ہجوم میں بھی اکیلی رہتی ہے ۔۔۔ بالکل تن تنہا ۔۔۔ وہ رات کے اندھیرے میں چلنے والی ریل گاڑی ہے جو مسافروں کو اپنے اپنے ٹھکانے پر پہنچا کر ایک آہنی چھت کے نیچے خالی کھڑی رہتی ہے۔ بالکل خالی دھوئیں اور گردوغبار سے اٹی ہوئی ۔۔۔ لوگ ہمیں برا کہتے ہیں۔ معلوم نہیں کیوں؟ ۔۔۔ وہی مرد جو رات کی تاریکی میں ہم سے راحت مول لے کر جاتے ہیں، دن کے اجالے میں ہمیں نفرت و حقارت سے دیکھتے ہیں ۔۔۔ ہم کھلے بندوں اپنا جسم بیچتی ہیں اور اس کو راز بنا کر نہیں رکھتیں۔ وہ ہمارے پاس یہ جنس خریدنے کیلئے آتے ہیں اور اس سودے کو راز بنا کر رکھتے ہیں ۔۔۔ سمجھ میں نہیں آتا کیوں؟‘‘
ذرا اس ویشیا کا تصور کیجئے جس کا اس دنیا میں کوئی بھی نہ ہو۔ نہ بھائی نہ بہن نہ ماں نہ باپ اور نہ کوئی دوست۔ اپنے گاہکوں سے فراغت پا کر جب وہ کمرے میں اکیلی بالکل اکیلی رہ جاتی ہوگی تو اس کے دل و دماغ کی کیا کیفیت ہوگی ؟ ۔۔۔ یہ تاریکی اس اندھیرے میں اور کتنی تاریک ہو جاتی ہوگی۔
اگر سارا دن ٹوکری ڈھونے کے بعد مزدور کو اپنی تھکان دور کرنے کا کوئی ذریعہ نظر نہ آئے، اپنی دل بستگی کیلئے بیوی کی باتیں اسے نصیب نہ ہوں، نہ اس کی ماں ہو جو اس کے تھکے ہوئے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر اس کی تمام تکلیفیں دور کر دے تو بتایئے اس مزدور کی کیا حالت ہوگی؟
اس مزدور اور اس ویشیا دونوں کی حالت ایک جیسی ہے۔ویشیا ایک رنگین شے نظر آتی ہے ۔۔۔ کیوں ؟
اس سوال کے جواب کیلئے ہمیں اپنا دل ٹٹولنا پڑے گا یہ کمزوری ہم مردوں کی نگاہوں کی ہے اور اس کمزوری کے اسباب تلاش کرنے کیلئے ہمیں اپنے آپ ہی سے بات چیت کرنا پڑے گی۔ اس بارے میں غوروفکر کے بعد ہم جو معلوم کر سکے ہیں یہ ہے۔
ویشیا کا نام لیتے وقت ہمارے دماغ میں ایک ایسی عورت کا تصور پیدا ہوتا ہے، جو مرد کی شہوانی خواہشات اس کی مرضی اور ضرورت کے مطابق پوری کر سکتی ہے، گو عورت اور ویشیا پن دو بالکل جدا چیزیں ہیں مگر جب ہم کسی ویشیا کے بارے میں کچھ سوچتے ہیں تو اس وقت عورت مع اپنے پیشے کے سامنے آ جاتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انسان پر اس کے ماحول اور اس کے پیشے کا بہت اثر ہوتا ہے، مگر کوئی وقت ایسا بھی ہوتا ہے جب وہ ان تمام چیزوں سے الگ ہٹ کر صرف انسان ہوتا ہے۔ اسی طرح کوئی ایسا وقت بھی ضرور آتا ہوگا جب ویشیا اپنے پیشے کا لباس اتار کر صرف عورت رہ جاتی ہو گی مگر افسوس ہے کہ ہم ہر وقت عورت اور ویشیا کو ایک ہی جگہ دیکھنے کے عادی ہیں۔
جب ویشیا کو ہم اس عینک سے دیکھیں تو ہمیں اس کے ساتھ ہی وہ چیز بھی نظر آتی ہے جسے ہم مرد عیش و عشرت سے تعبیر کرتے ہیں اور عیش و عشرت کا مطلب عام طور پر جسمانی لذت ہوتا ہے۔
جسمانی لذت کیا ہے؟
ایک وقتی حظ جو ہمیں اپنی بیوی یا کسی اور عورت کی مدد سے حاصل ہوتا ہے۔ اب یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ شادی شدہ مرد اپنی بیویاں چھوڑ کر اس وقتی لذت کیلئے بازاری عورتوں کے پاس کیوں جاتے ہیں؟ جب ان لوگوں کی جسمانی خواہشات گھر میں پوری ہو سکتی ہیں تو وہ اس کیلئے باہر کیوں مارے مارے پھرتے ہیں؟
اس سوال کا جواب مشکل نہیں۔ آپ کو ایسے کئی آدمی نظر آئیں گے جو گھر کے مرغن اور لذیذ کھانے چھوڑ کر ہوٹلوں میں جاتے ہیں۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ ان کو ہوٹلوں کے کھانے کی چاٹ پڑ جاتی ہے۔ ہوٹل کی چیزوں میں غذائیت کم ہوتی ہے مگر ان میں ایک اور شے ہوتی ہے جو ان لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔ اسے ہم ’’ہوٹلیت‘‘ کہہ سکتے ہیں، ایک ایسی برائی جو وصف بن جاتی ہے بلکہ یوں کہیئے کہ ایک کشش بن جاتی ہے۔ اس میں ہوٹل کے مالکوں کے فن کا دخل بھی ہوتا ہے۔
اس کے علاوہ جو ماحول ہوٹل میں میسر آ سکتا ہے، انہیں اپنے گھر میں نصیب نہیں ہو سکتا۔ انسان طبعاً تنوع پسند ہے، ا سلیئے جب وہ اپنے روزمرہ کے پروگرام میں تبدیلی چاہے تو تعجب نہ ہونا چاہیئے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہوٹلوں میں ان لوگوں کو اچھا کھانا نہیں مل سکتا اور اس میں کسی شک کی گنجائش نہیں کہ یہاں گھر کی بہ نسبت زیادہ خرچ برداشت کرنا پڑتا ہے مگر یہی چیز تو یہ لوگ چاہتے ہیں۔ یہی فرق تو انہیں گھر سے کھینچ کر ہوٹلوں میں لاتا ہے۔ یہ نادانی ہے مگر لطف یہ ہے کہ انہیں اسی نادانی ہی میں تو مزا آتا ہے۔
ان شادی شدہ مردوں کا بھی یہی حال ہے جو اپنی بیویاں چھوڑ کر بازاری عورتوں کی آغوش میں لذت تلاش کرنے آتے ہیں۔ اب آپ پوچھیں گے کہ آیا ان لوگوں کو اس تلاش میں کامیابی ہوتی ہے؟ ۔۔۔ ہم کہیں گے یقیناً ۔۔۔ جن عورتوں کے پاس یہ لوگ جاتے ہیں اس فن کی ماہر ہوتی ہیں۔ وہ یہی چیز تو بیچتی ہیں۔ ان کا پیشہ ہی یہ ہے کہ گھریلو عورتوں سے بالکل مختلف رنگ کی لذت پیش کریں، اگر وہ ایسا نہ کریں تو ان کا کاروبار کیسے چل سکتا ہے؟
جیساکہ ہم اس مقالے کے آغاز میں کہہ چکے ہیں۔ عصمت فروشی خلاف عقل چیز نہیں۔

سعادت حسن منٹو




جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے