مضامین

عمران شمشاد کی شاعری ….. نیل احمد

Spread the love





بہت دن ہوئے عمران شمشاد کی کتاب "عمران کی شاعری” موصول ہوئی تو کتاب پڑھنے اور یہ جاننے کا موقع ملا کہ کراچی کے ادبی منظر نامے پرایک ایسا نوجوان شاعربھی موجود ہے جو زیست کے شب و روز اپنی شاعری میں اس انداز سے ڈھالتا ہے کہ غزلوں اور نظموں کے الفاظ احساس سے تر محسوس ہوتے ہیں – منفرد لب و لہجہ کا یہ نوجوان شاعر روایتی شعری اسلوب سے ذرا ہٹ کر اپنا راستہ بناتا ہوا نظر آتا ہے ۔ معاشرے کے جس طبقے کی نمائندگی کی جھلک اس کے کلام میں نظر آتی ہے ، پہلے بھی اس پر بہت کچھ لکھا چکا ہے مگر عمران شمشاد نے جن موضوعات پر قلم اٹھایا ہے وہ آج کے دور کا المیہ قرار دئیے جاتے ہیں جو "سڑک” چھاپ سے لے کر کے ملک صاحب تک بدلتے ہوۓ انسانی رویوں کا عکاس ہے – عمران شمشاد جدیدیت کا علمبردار ہے مگر وہ روایت کا دامن بھی نہیں چھوڑنا چاہتا –

عمران کی شاعری حقیقت پسندانہ خیالات کی عکاسی کرتی ہے ، عمران نے زندگی کے مشاہدات و تجربات کو الفاظ کے موتیوں کی مالا اس طرح پہنائی ہے کہ ہر لفظ آبگینہ احساس نظر آتا ہے ۔ عمران کی تشبیہات حقیقی زندگی کے استعارے ہیں ، اس کے کلام میں دور حاضر کا شعور ملتا ہے ، یہ بات محسوس کی جا سکتی ہے کہ عمران صاحب بصیرت اور حساس شاعر ہے ۔ وہ چلتے پھرتے اُٹھتے بیٹھتے حقیقی کرداروں کی لفظوں کی مدد سے سچی تصویریں بناتا ہے اور زمین کی تہوں میں چھپی کڑوی سچائیوں کو لطیف پیرائیوں میں ڈھالنے کا ہنر جانتا ہے ۔ یہ کس قدر عجیب بات ہے کہ "دنیا بھر کے دکھ کا حاصل” صرف ایک نظم ٹہری ۔

عمران شمشاد کے یہاں جب دل میں چھپے درد کی کسک ، ادھوری خواہشوں کی تکمیل اور مسافتوں کا ادراک بصارتوں کے آئینہ خانے سے عکس بن کے جھلکنے لگا تو وہیں گمان کی "ایک تتلی اڑی” اور زمان و مکاں کے دائروں میں بھٹکتی بھٹکتی اپنے رنگ گنوا بیٹھی اور منظر "کالا” ہو گیا ۔ اچانک اسے "ٹک ٹک کھٹ کھٹ ٹھک ٹھک دھک دھک” کی آوازیں سنائی دینے لگیں اور اسے محسوس ہوا کہ جیسے اس پر اسرار ذات کھلنے لگے اور اس کا دل روشن ہونے لگا ہے ، اس کے اشعار سے شعاعیں پھوٹنے لگیں اور اسے علم ہو گیا کہ اپنے خوابوں کی تکمیل میں سب سے بڑی”رکاوٹ” تو "میں” خود تھا جسے کوئی پکار پکار کر کہتا رہا تھا کہ "آؤ فرصت ہے کوئی بات کریں” مگر وہ”بے نیازی” کا پیکر بنے زندگی کے کینوس پر خواہشوں کے پرندے بنا کر اڑاتا رہتا ہے

مارکسیت اور اشتراکیت کی دھول میں اٹا اکیسویں صدی کا نیا انسان پرانے آدمی سے آشنا ہے اور نہ ہی روایتی قدروں اور اجلی رسموں کا داعی ۔ گروہی تعصبات، طبقاتی تضاد، نسلی امتیاز اور فرقہ پرستی اس کے لیے ناقابل برداشت جبر ہے جبکہ سہولت کاری، تیز رفتاری اور خود غرضی اس کی پہچان ۔ عمران شمشاد بدلتے ہوئے انسانی رویوں سے خوف زدہ ہے ، وہ "انسان اور مشین” کے بڑھتے ہوئے تعلق سے خائف ہے ۔ وہ دیکھتا ہے کہ "پارکوں میں تالے ہیں” اور بچے "بٹنوں” سے کھیل رہے ہیں اور بڑے موبائل میں منہ دیئے بیٹھے ہیں ، پیار محبت، رشتے ناتے ، کھیل سپاٹے سب داؤ پر لگے ہیں ، عمران سیگریٹ سلگھتا ہے اور دھویں سے بننے والے بے ترتیب نقش و نگار میں انسان کا سراغ ڈھونڈنے لگتا ہے مگر اس کے چاروں طرف مشینوں کی آوازوں کا شور ہے اور یہ شور سماعتوں کو نگل گیا ہے ، احساس کو کھا گیا ہے اور جذبوں کے رنگ پھیکے پڑنے لگے ہیں ۔ وہ سوچنے لگتا ہے کہ یہ آلات ہی انسان کی خوشی کا باعث ہیں اور یہی غمِ کا سبسب – انسان معدوم ہو رہا ہے، زندگی خوابوں، خیالوں، خواہشوں، خراشوں، خوشبوؤں، تقاضوں، آہوں، سانسوں اور وعدوں سے تعبیر کی جاتی ہے مگر عمران شمشاد کہتا ہے "یہ سب باتیں جھوٹی نکلیں” یہاں تو بس "زخم دینے والے لوگ ہیں” جو ” خبر کا رخ” پھیرنے میں تردد سے کام "نہیں” لیتے ۔




عمران شمشاد "سفید سادہ اداس کاغذ” پر اپنے لہجے کی وحشیوں کو آڑی ترچھی "لکیریں” کھینچ کر رقم کرتا جاتا ہے ۔ یہ لکیریں وہ رستے ہیں جہاں جہاں اس کے قدم پڑے ہیں مگر سچ تو یہ ہے کہ اس کے خواب اب بھی تعبیر کے انتظار میں سانس لے رہے ہیں ۔

"سڑک”
سڑک مسافت کی عجلتوں میں
گھرے ہوئے سب مسافروں کو
بہ‌ غور فرصت سے دیکھتی ہے
کسی کے چہرے پہ سرخ وحشت چمک رہی ہے
کسی کے چہرے سے زرد حیرت چھلک رہی ہے
کسی کی آنکھیں ہری بھری ہیں
کبیر حد سے ابھر رہا ہے
صغیر قد سے گزر رہا ہے
کسی کا ٹائر کسی کے پہیے کو کھا رہا ہے
کسی کا جوتا کسی کی چپل چبا رہا ہے
کسی کے پیروں میں آ رہا ہے کسی کا بچہ
کسی کا بچہ کسی کے شانے پہ جا رہا ہے
کوئی ٹھکانے پہ کوئی کھانے پہ جا رہا ہے
حبیب دست رقیب تھامے
غریب خانے پہ جا رہا ہے
امیر پنجرہ بنا رہا ہے
غلام کرتب دکھا رہا ہے
اور اپنے بیٹے کے ساتھ چھت پر
امین کنڈا لگا رہا ہے
نظام ٹانگہ چلا رہا ہے
کسی کلائی پہ جگمگاتی ہوئی گھڑی ہے
مگر ابھی وہ رکی ہوئی ہے
کسی کے چہرے پہ بارہ بجنے میں پانچ سیکنڈ رہ گئے ہیں
کسی کی ہاتھی نما پراڈو
سڑک سے ایسے گزر رہی ہے
سوائے اس کے کہیں بھی جیسے کوئی نہیں ہو
کسی کی مونچھیں جھکی ہوئی ہیں
کسی کی بانچھیں کھلی ہوئی ہیں
کسی کی ٹیکسی کسی کی فوکسی ملی ہوئی ہیں
کسی کے لب اور کسی کی آنکھیں سلی ہوئی ہیں
کسی کے کپڑے پھٹے ہوئے ہیں
کسی کی پگڑی چمک رہی ہے
کسی کی رنگت کسی کی ٹوپی اڑی ہوئی ہے
شریف نظریں اٹھا اٹھا کر
کمان جسموں پہ اپنی وحشت کے تیر کب سے چلا رہا ہے
نظیر نظریں چرا رہا ہے
نفیس اپنے کلف کی شکنوں کو رو رہا ہے
حکیم اپنے مطب کے شیشوں کو دھو رہا ہے
کسی کی آنکھوں کے دھندلے شیشوں میں اس کے ماضی کی جھلکیاں ہیں
کسی کی آنکھوں میں آنے والے حسین لمحوں کی مستیاں ہیں
کسی کی آنکھوں میں رت جگوں کی کچھ ارغوانی سی ڈوریاں ہیں
کسی کے کاندھے پہ اس کے خوابوں کی بوریاں ہیں
کباڑ خانے پہ باسی ٹکڑوں کی اور کتابوں کی بوریاں ہیں
بزرگ برگد کے نیچے بوڑھا کھڑا ہوا ہے
اور اس کے ہاتھوں میں ٹیپ لپٹی ہوئی چھڑی ہے
پولیس کی گاڑی پکٹ لگا کر
سڑک پہ ترچھی کھڑی ہوئی ہے
اور ایک مزدور اپنا دامن اٹھائے بے بس کھڑا ہوا ہے
اور اک سپاہی کہ اس کے نیفے میں انگلیوں کو گھما رہا ہے
وہیں پہ شاہد سیاہ چشمہ لگا کے خود کو چھپا رہا ہے
نیوز چینل کی چھوٹی گاڑی بڑی خبر کی تلاش میں ہے
دو سبزی والے بھی اپنی پھیری لگا رہے ہیں
تو پھول والے کے سر پہ پھولوں کی ٹوکری ہے
کسی کی آنکھوں میں نوکری ہے
کسی کی آنکھوں میں چھوکری ہے
وقار سر کو جھکا رہا ہے
فراز کھائی میں جا رہا ہے
تو گیلی سگریٹ کے کش لگا کر
نواب رکشا چلا رہا ہے
سلیم کنی گھما رہا ہے
وکیل وردی میں جا رہا ہے
ضمیر بغلیں بجا رہا ہے
اور ایک واعظ بتا رہا ہے
خدا کو ناراض کرنے والے جہنمی ہیں
خدا کو راضی کرو خدارا
خدا کو راضی کرو خدارا
اور اس کے آگے نصیر اکمل کمال شاداب غلام سارے
نظر جھکائے کھڑے ہوئے ہیں
کہ چشم بینا اگر کہیں ہے
تو سمجھو پاتال تک گڑھی ہے
کسی کو اے سی خریدنا ہے
کسی کو پی سی خریدنا ہے
کسی کی بس اور کسی کی بی سی نکل رہی ہے
عقیلہ خالہ کے دونوں ہاتھوں میں آٹھ تھیلے لٹک رہے ہیں
اور آتے جاتے سبھی مسافر
انہیں مسلسل کھٹک رہے ہیں
ضیا اندھیرے میں جا رہا ہے
گلاب کچرا جلا رہا ہے
عظیم مکھی اڑا رہا ہے
کلیم گٹکا چبا رہا ہے
تو گھنٹہ پیکج پہ جانے کب سے
فہیم گپیں لڑا رہا ہے
سبق مساوات کا سکھانے
وزیر گاڑی میں جا رہا ہے
ثنا ندا کو نئے لطیفے سنا رہی ہے
حنا ہتھیلی کو تکتے تکتے پرانے رستے سے آ رہی ہے
اور اپنی بھاوج کا ہاتھ تھامے
زبیدہ چیک اپ کو جا رہی ہے
وہ اپنی نظریں کبھی ادھر کو کبھی ادھر کو گھما رہی ہے
مگر کوئی شے اسے مسلسل بلا رہی رہی ہے
عجیب عجلت عجیب وحشت عجیب غفلت کا ماجرا ہے
کہوں میں کس سے مرے خدایا یہ کیسی خلقت کا ماجرا ہے
کہ اپنی مستی میں مست ہو کر
یہ سب مسافر گزر رہے
نئے مسافر ابھر رہے ہیں
سڑک جہاں تھی وہیں کھڑی ہے
مگر حقیقت بہت بڑی ہے
سڑک پہ بلی مری پڑی ہے

"دنیا بھر کے دکھ کا حاصل”

خالی کمرہ
گہری سانسیں
کمرے کے اک کونے میں اک ٹوٹی پھوٹی میز
میز پہ دنیا بھر کا گورکھ دھندا
کاٹھ کباڑ
کاٹھ کباڑ سے تھوڑا آگے ترچھا پیپر ویٹ
پیپر ویٹ کے نیچے کاغذ
کاغذ پر لفظوں کا ڈھیر
ڈھیر کے پاس اک ٹوٹی عینک
عینک کے شیشوں کے پیچھے موٹے موٹے حرف
عینک کے شیشوں سے آگے نیلے پیلے کالے دھبے
دھبوں میں اوندھے منہ لیٹی عیش ٹرے میں مردہ سانسیں بجھتی سگریٹ
اور ماچس کی آدھی تیلی
ماچس کی تیلی پہ چپکا چائے کا چھلکا
اور اک ٹوٹی ڈنڈی کا کپ
کپ سے آگے میز کا کونا
میز سے آگے جھولتی کرسی
کرسی پر اک شخص
شخص بھی وہ جس کی آنکھوں میں دنیا بھر کا دکھ
دنیا بھر کے دکھ کا حاصل
دنیا بھر کا دکھ

"ایک تتلی اڑی”

ایک تتلی اڑی
گلستاں کو چلی
ڈالی ڈالی بڑھی
غنچہ غنچہ پھری
اس کی اک پھول سے
دوستی ہو گئی
خوش نوا سب پرندے چہکنے لگے
خار تک خوش دلی سے مہکنے لگے
پھول نے جڑ کی محنت کا رس
خود نچھاور کیا
اور تتلی محبت کے رنگین پل
چھوڑ کر اڑ گئی
پھر نہ تتلی ملی
اور نہ گل کھل سکا
بوٹے بوٹوں تلے آ گئے
اور پھر گلستاں چھاؤنی بن گیا

"کالا”

کالا حد سے بھی کالا تھا
اتنا کالا جتنی تیری سوچ
اتنا کالا جتنی تیرے دل کی کالک
کون تھا کالا
کالا کالا سوچتا جاتا
کھرچ کھرچ کر نوچتا جاتا
اپنا ہونا کھوجتا جاتا
جملوں کی بدبو کے اندر
اپنی خوشبو سونگھتا جاتا
اپنی سگریٹ پھونکتا جاتا
کالے کی سگریٹ بھی کالی
کالے کا گردہ بھی کالا
کالے کی کپی بھی کالی
کالے کی چسکی بھی کالی
کالے کا ہر کش بھی کالا
ہر ہر کش سے لال بھبھوکا
کالے کی آنکھیں بھی کالی
آنکھوں سے گرنے والے سب آنسو کالے
اور کالی آنکھوں میں دکھنے والی
مشکل کی دیوار بھی کالی
کالے کی تو جیت بھی کالی ہار بھی کالی
کالے کے سب بلب بھی کالے
کالے کی سب وائرنگ کالی
وائرنگ وہ جو اندر اندر
سلگ سلگ کر
کالے کی ساری سوچوں کو
اور خوابوں کو
گلا چکی تھی
جلا چکی تھی
جب وہ چلتا تو لگتا وہ لہراتا ہے
چلتے چلتے بل کھاتا ہے
گر جاتا ہے
کالا کیا تھا
کلنگ کا ٹیکہ
زمیں کا دھبہ
کالا جس کی آگ میں جل کر راکھ ہوا تھا
کالے کے اندر کی آگ تھی
یا تھی وہ باہر کی آگ
آگ بھی کالی
دھواں بھی کالا راکھ بھی کالی
آگ سے اٹھنے والا اک اک شعلہ کالا
کالے کی بے بسی بھی کالی
کالے کی کھجلی بھی کالی
کالے کے سب پھوڑے پھنسی چھالے کالے
کالے کو سب کالا کہنے والے کالے
اک دن کالی سڑک کنارے
بنگالی کے پان کے کیبن کی جالی کو تھامے کالا
گھور رہا تھا آتے جاتے
رنگ برنگے کرداروں کو
رکشا موٹر سائیکل اور کاروں کو
اک لمبی سی کالی گاڑی
دھواں اڑاتی
چیختی اور چلاتی گزری
گہرے کالے بالوں والی گوری بچی
ایک گلی سے بھاگتی نکلی
کالا بھاگا
اور گوری بچی کو پورے زور سے دھکا دے کر
کالی گاڑی کے دھکے کو خود پر جھیلا
کالا جاتے جاتے سب سے کیسا کھیلا
گوری بچی بچ گئی لیکن
کالا اپنی جاں دے بیٹھا
پیلے لال گلابی چہرے
کالے کی جانب جب لپکے
سب نے دیکھا
کالے کی آنکھوں میں چیخ رہا تھا ایک سوال
کالے کے زخموں سے بہنے والا خون تھا لال

"خبر کا رخ”

ٹی وی پر اک خبر چلی ہے
شہر کی جانب
بڑھنے والے سیلابی ریلے کا رخ
گاؤں کی جانب موڑ دیا ہے
گاؤں میں بیٹھے اک دیہاتی نے غصے میں
اپنا ٹی وی توڑ دیا ہے




جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے