شاعری غزل

مہ و نجوم کا ملبہ بدن پہ آن گرا ….. شہزاد نیر

Spread the love

مہ و نجوم کا ملبہ بدن پہ آن گرا
کوئی طناب کٹی تھی کہ آسمان گرا

ہزار ہاتھ فضا میں عَلم بنائیں گے
مرے غنیم سنبھل کر مرا نشان گرا

جنون و عقل کی کیسی عجب لڑائی تھی
نظر بچا کے میں دونوں کے درمیان گرا

فلک نشین تو زوروں سے کھینچتا تھا مجھے
میں خود ہی گرتا گراتا زمیں پہ آن گرا

سروں پہ دھوپ اٹھائے یہاں تک آئے تھے
قدم جمے بھی نہیں تھے کہ سائبان گرا

تمھارے ہجر کے شانے پہ ہاتھ رکھتے ہی
مرے بدن کا لرزتا ہوا مکان گرا

اُدھر دعا کو اٹھائے ہوئے وہ ہاتھ گرے
اِدھر وجود کی کشتی کا بادبان گرا
شہزاد نیر



جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے