شاعری غزل

میں اس لیے بھی گھڑے پر سوار تھا ہی نہیں  …. آزاد حسین آزاد

Spread the love




میں اس لیے بھی گھڑے پر سوار تھا ہی نہیں 
کہ میرا کوئی بھی دریا کے پار تھا ہی نہیں

یوں تازہ دم ہیں ترے اہلیان شوق اب کے
سفر میں جیسےکہیں پر غبار تھا ہی نہیں

میں اس جگہ بھی بڑی دیر تک رہا موجود 
وہ جس جگہ پہ مرا انتظار تھا ہی نہیں

تمہاری یاد سے اک عمر انسلاک رہا 
سوائے اس کے مجھے روزگار تھا ہی نہیں

میں بے کشش ہی بھٹکتا رہا خلاؤں میں 
مجھے جو باندھ کے رکھتا، مدار تھا ہی نہیں




جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے