مضامین

میں نے اپنی جانب دیکھا … شاعر: سعید اشعر…. تحریر: ملیحہ سید

Spread the love




میں نے اپنی جانب دیکھا

شاعر : سعید اشعرؔ

تحریر :ملیحہ سید

میں نے اپنی جانب دیکھا
میرے اندر
جنگل گونج رہا تھا
(نظم : کشف سے اقتباس)
ہری پور سے تعلق رکھنے والے محمد سعید پر شعر کب اترا، غزل کب مہربان ہوئی ، اس بارے میں ان کا کہنا ہے کہ ’’جب لکھنا شروع کیا تو ٹوٹی پھوٹی شعری وارداتیں سرزرد ہونے لگیں اور پھر میٹرک کے بعد باضابطہ شعر کہنا شروع کر دیا‘‘۔ محمد سعید سے سعید اشعرؔ کا جنم بلاشبہ ادبی افق پر خدائے لفظ کی مہربانی تھی۔سعید اشعرؔ نے نظم اور غزل دونوں میں طبع آزمائی کی ہے۔ ان کی پہلی ادبی منزل ’’روشنی گلابوں کی‘‘ تھی۔ اس منزل کو سر کرنے کے بعد انہوں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اور دوسرا ادبی پڑاؤ ’’میری غزل ‘‘ پر جا کر کیا۔ دونوں کتابیں غزل کی تھیں جس میں انہوں نے محبت اور روایتی موضوعات سے ہٹ کر زندگی کے تمام موضوعات کو اپنے لفظوں میں ڈھالا اور اعلی پایے کے شعر بنے۔ہجرت اور اپنوں سے دوری نے انہیں حد درجہ حساس بنا دیا اور یہ حساسیت ان کے کلام میں بھی نظر آتی ہے۔ان کا شعر سطحی نوعیت کا نہیں ہے بلکہ اسے سمجھنے کے لیے قاری کو اپنی سطحی سوچ و فکر سے اوپر جانا پڑتا ہے اور یہی ایک تخلیق کار کی کامیابی ہوتی ہے کہ وہ قاری کو اس کے روایتی خول سے باہر نکال لے۔

غزل پر طبع آزمائی اور اپنا مقام بنانے کے بعد سعید اشعرؔ نے نظم پر بھی کام کیا ،ارشد نعیم لکھتے ہیں کہ ’’زندگی کے خارجی مظاہر کو نظم کا موضوع بنانے میں سب سے بڑی مشکل یہ ہوتی ہے کہ نظم میں شعری تجربے کی گنجائش بہت کم ہو جاتی ہے۔ یہ کام بالکل پل صراط پر سفر کرنے کی طرح ہے۔ تخلیق کار تھوڑا سا بھی ڈگمگایا اور نظم اپنے وجود سے باہر گر گئی۔‘‘ مگر سعید اشعرؔ نظم کی تخلیق کے مرحلے میں ذرا بھی نہیں ڈگمگائے۔ انہوں نے خارجی مظاہر کو اپنی نظموں کا موضوع بنایا اوراس عمدگی سے انہیں نبھایا کہ پڑھنے والا واہ واہ کر اٹھا۔ان کی نظموں کا مجموعہ ’’ایلیا حسن! تم کیسے ہو؟‘‘ اس کی مثال ہے۔ سعید اشعرؔ کی شخصیت کا ایک اور پہلو کہ انہوں نے صرف شعر و غزل اور نظم پر ہی طبع آزمائی نہیں بلکہ ان کی مشقِ سخن میں رباعی اور خاکہ نویسی بھی شامل ہے۔ خاکہ لکھنے کا انداز بھی ایسا ہے کہ بندے سے روبرو ملاقات ہو رہی ہو جیسے۔ ان کی آنے والی کتابوں میں ’’امواج ‘‘ رباعیات پر مشتمل ہے جبکہ غزل کے دو مجموعے ’’تاویل” اور ’’میں اور میں ‘‘ زیر طبع ہیں ۔
ان کے کلام سے کچھ انتخاب



حدودِ وقت سے باہر اسے نکلنا ہے
حصارِ ذات میں محوِ جمال جو بھی ہو

مجھے ملنے کی خاطر جب کبھی آؤ
پرندوں کو رہا کرنا، دعا کرنا

ایک مدت سے مجھ پہ قابض ہے
میر کا فیصلہ کرے کوئی

اس کا مطلب ہے کہ حالات سنورنے لگے ہیں
اک پرندہ یہ جو اُڑتا نظر آتا ہے مجھے

میں محبت کا جو انکاری تھا
مجھ سے منوا کے ہی چھوڑا اس نے

وہ ستارہ ، افق پہ جو چمکا
بادبانوں میں رکھ دیا اس نے

’’نظمیں دستک دیتی ہیں‘‘ (نظم)

نظمیں دستک دیتی ہیں
دروازے پر
دروازے کے اندر باہر
خاموشی کی سانسیں لٹکی ہیں

صحن میں سبزے کاتختہ
بنچ پہ بیٹھے بیٹھے
اس نے میرے ہاتھوں کو تھام لیا
ہلکی ہلکی بارش میں
ہم دونوں کے کپڑے اور آنکھیں
بھیگ رہے ہیں




بستی کے باہر
پتھر کے نیچے
میرا سایہ
اک سایہ اس کا ہمسایہ
کمرے کی کھڑکی میں رکھے گملے میں
سرخ گلاب کا پودا
کھڑکی کے باہر دھانی آنچل جھول رہا ہے

نظمیں دستک دیتی ہیں
کھڑکی کے بند کواڑوں پر
کھڑکی کے اندر باہر
کس کی سرگوشی
خوشبو بن کر پھیل رہی ہے



جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے