شاعری غزل

نہیں یہ بات کہ ہم پر ستم نہیں گرتے …. سیدہ ہما شاہ

Spread the love

نہیں یہ بات کہ ہم پر ستم نہیں گرتے
ہمارے ہاتھ سے لیکن قلم نہیں گرتے

کسی نے خون سےلکھا ہوا تھا لہروں پر
بڑے مکان کبھی ایک دم نہیں گرتے

درخت پھر بھی امر ہیں صداقتوں کی طرح
گو ان کے پتے ہواؤں سے کم نہیں گرتے

وہ اور دور کوئی معجزوں کا تھا شاید
کہ اب تو کعبہِ دل کے صنم نہیں گرتے

یہ لوگ کیا ہیں سمندر بھی کوششیں کر لے
ہمآ کسی کے گرانے سے ہم نہیں گرتے

سیدہ ہمآ شاہ




جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے