شاعری غزل

ہر اشک نیا ہجر مناتے ہوئے گزرا …. رضوانہ ملک

Spread the love

ہر اشک نیا ہجر مناتے ہوئے گزرا
ہر لحظہ یہی قصہ سناتے ہوئے گزرا

اثبات گل,راز کے ہیں اور بھی آگے
گلشن سے جو گزرا یہ بتاتے ہوئے گزرا

اجداد شجرکاری میں رکھتے تھے مہارت
میرا بھی سفر پیڑ اگاتے ہوئے گزرا

یہ لہر کسے زور دکھانے چلی آئی
یہ دل تو کناروں کو گراتے ہوئے گزرا

میت پہ مری بعد میں وہ آئے تو کہنا
جو گزرا تری راہ پہ آتے ہوئے گزرا.

وہ لمحہ ملاقات میں شامل نہ کیا کر
رض وہ جو کبھی آنکھ چراتے ہوئے گزرا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے