مائکروفکشن

Be Mine …. ملیحہ سید

Spread the love




اس سے میری ملاقات اتفاقی تھی ،یا یوں کہہ لیں میں ایک عرصے تک جو میں محبت کی نفی کرتی چلی آئی تھی ، وقت آ گیا تھا کہ مجھے اس کی سزا ملے۔ میں نے اس کے بعد اسے نہیں دیکھا مگر سوچا بہت، میں نے اسے اتنا ہی سوچا جتنا سوچا جا سکتا تھا۔مگر پهر خود ہی خاموش ہو گئی ۔یہ خاموشی مجھے کھاتی تھی جیسے میں کسی قبرمیں مردہ پڑی ہوں اور کیڑے میری لاش کھا رہے رہیں۔
اچانک ہی پھر سے ہماری ملاقات ہوئی ،بات چیت کا سلسلہ چل نکلا اور ملاقاتوں کا بھی ،آگ دونوں طرف تھی ، محبت یک طرفہ نہیں تھی۔ اس نے بھی بار ہا مجھے سوچا تھا۔ ایک دن اس نے کہا Be Mineاور میرے پاس انکار کا کوئی جواز ہی نہیں تھا۔اس نے تو محبت کا اقرارمانگا تھا ، جان بھی مانگتا تو دے دیتی۔
دن گزرتے رہے، ہماری محبت اب اس مقام پر آ چکی تھی جہاں دل، عقل کا ہاتھ چھوڑ دیا کرتا ہے۔ محبوب غلط ہو کر بھی صحیح لگتا ہے۔جہاں رشتے اور سماج راہ کی دیوار لگتے ہیں۔میں بھول گئی تھی ….. بے تحاشا محبت کے بعد دائمی جدائی حقیقت ہے،جس کا ادارک جب ہوا تو اپنا وجود کسی پاتال میں گرتا محسوس ہوا۔میں تو Be Mineکے خمار میں اتنی آگے نکل چکی تھی، واپسی کے سبھی راستے بند ہو گئے تھے۔اب کے فیصلہ میرا تھا،ٹھہرے پانی کی جھیل کا سرانڈ زدہ پانی بننا ہے یا ندی کا بہتا دھارا۔ دل سے آواز آئی Be Mine اور میں نے محبت کے پرندے کو آزاد کر دیا۔




جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے