شاعری غزل

جو سر بھی کشیدہ ہو اسے دار کرے ہے ….. احمد فراز

جو سر بھی کشیدہ ہو اسے دار کرے ہے اغیار تو کرتے تھے سو اب یار کرے ہے وہ کون ستمگر تھے کہ یاد آنے لگے ہیں تو کیسا مسیحا ہے کہ بیمار کرے ہے اب روشنی ہوتی ہے کہ گھر جلتا ہے دیکھیں شعلہ سا طوافِ در و دیوار کرے ہے کیا دل کا […]

شاعری غزل

تشنگی آنکھوں میں اور دریا خیالوں میں رہے …. احمد فراز

تشنگی آنکھوں میں اور دریا خیالوں میں رہے ہم نوا گر، خوش رہے جیسے بھی حالوں میں رہے دیکھنا اے رہ نوردِ شوق! کوئے یار تک کچھ نہ کچھ رنگِ حنا پاؤں کے چھالوں میں رہے ہم سے کیوں مانگے حسابِ جاں کوئی جب عمر بھر کون ہیں، کیا ہیں، کہاں ہیں؟ ان سوالوں میں […]